حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ
| مضمون کی فہرست |
|---|
| حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ |
| ملاقات |
| قابیل و ہابیل |
| تمام صفحات |
حضرت آدم کا واقعہ
خد انے لاکھو ں سال پہلے کائنات ..ستارے اور آسمان پیداکئے اور اﷲنے ملائکہ کو نو ر سے خلق کیا..جنوں کو آگ سے پیدا کیا ،زمین کو وجود بخشا ،پہلے یہ زمین ایسی نہیں تھی جیسی آج ہے دریاؤں سے بھری ہوئی تھی ،موجیں بپھری ہوئی تھیں ،شدید ہوا ئیں چلتی تھیں ، زمین پر زندہ نام کی کوئی چیز نہیں تھی ، نہ دریاؤں میں اور نہ صحرا ؤںمیں ، لاکھو ں سال قبل دریاؤںمیںچھوٹی چھوٹی مچھلیاں پید اہوئیں اور خشکی میںمعمولی نباتات اگ آئیں ، پھر حیات تیزی سے ترقی کرنے لگی ،اور زمین پر ٹڈی اور کیڑے مکوڑے دوڑنے لگے ،اور دنیا مختلف اور متعددصورت میںظاہر ہوئی ، ایک زمانہ میں برف میں چھپ گئی اور نباتات وحیوانات پھر برف پگھل گئی ، اور زمین پر دوبارہ زندگی لوٹ آئی ،
اس طر ح زمانہ میں آتش فشانی ،زلزلوں اورشدید ہواؤں منھ زور موجوں سے زمین کو بھی آرام نہیں ملا تھا اور اس کے بعد برف پگھلنے نہیںپائی تھی کہ خدانے زمین کے نشیب وفراز شور وزرخیز زمین سے خاک لی اور اسکو پانی سے مخلوط کیا اورمٹی کے اجزاء آپس میں ایک دوسرے سے چمٹ گئے
خدا نے اس مٹی سے انسان کی صورت کا پتلہ بنایا ، اس کو سر ،دو آنکھیں ،زبان ،لب ناک ، کان ،دل ، سینہ ،اور ہاتھ پاؤں بنائے ، پانی بھاپ بن کر اڑگیا ،بشری پیکرمیں کھنک پیدا ہوگئی ، ہو ا چلتی تو اس پتلے سے کھنک اور سوکھ جانے کی آواز سنائی دیتی ، یہ پتلہ مدتوں ایسے ہی پڑ ارہا ، خداہی جانتا ہے کہ کتنی مدت تک یہ پتلہ اس حالت میں رہا ،
زمین
اس زمانہ میںزمین کو قرار آگیا ،دریاؤںمیںموجوں کا اضطراب ختم ہوگیا ، ہوارک گئی ، اورآتش فشاں پہاڑوں کی آگ ٹھنڈی ہوگئی ، پیڑ ، پودے اگ آئے ، اور جنگل وجودمیں آگئے زمین ، جانوروں اور پرندوں سے بھرگئی ،گواراپانی کے چشمے جاری ہوگئے ،نہریںبہہ نکلیں .
جن علاقوںمیں پانی نہیںتھا ،وہاں ہوائیں اپنے دوش پر بادل لاتیں مو سلادھار بارش برساتیںتاکہ نہروں اور نباتات سے خالی صحراء کو زندہ کریں جب انسان خلائی سفر کرتاہے تو زمین اسے دور سے ایک کرہ دکھائی دیتی ہے جو کہ فضاءمیںسورج کے گرد گھوم رہی ہے اور اس سے فصلیں اور موسم وجودمیں آرہا ہے ، گرمی کے بعد خریف ،اور خریف کے بعد سردی اور سردی کے بعد بہار کا مو سم آتا ہے ، پھر زمین سر سبز وشاداب ہوجاتی ہے ،نباتات اور جنگل کی شادابی میں چار چاند لگ جاتے ہیں ،
نہروں میںموتی جیسا گواراپانی بہتا ہے چشموں سے صاف اور ٹھنڈا پانی نکلتا ہے ، زمین خود بھی اپنے گر د گھومتی ہے ،اس گردش کے نیتجہ میںرات دن بنتے ہیں ، دن میں پرندے جاگ اٹھتے ہیں ، اور اڑکر اپنا رزق تلاش کرنے لگتے ہیں ، جانور جاگ جاتے ہیں ،اور اپنی خوراک ڈھونڈنے لگتے ہیں ، جنگلوںمیں ہرن اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہا ڑی بکرے دوڑنے لگتے ہیں، تتلیا ں باغوںمیں اڑ کر کلیاں اور ان کا عرق تلاش کرنے لگتی ہیں ، درندے بھی جنگلوںمیں ٹہلنے لگتے ہیں ، روئے زمین پرہر چیز بڑھ رہی ہے اور اسمیں اضافہ ہورہاہے ، چنانچہ زمین زندگی اور شادابی سے بھرگئی ، پیڑ پھو لوں سے لدے ہوئے ہیں،بکری اور بکرے غاروںمیں پناہ لئے ہیں تاکہ درندوں سے محفوظ رہ سکیں ، ہر چیز اپنی طبیعت کے مطابق اسی راستہ کو طے کررہی ہے جس پر خدانے اسے پیداکیا ہے ،
زمین بے حد حسین ہوگئی ..رنگ برنگی ..نیلے دریا ..ہرے جنگل نرم ونازک پیڑ پودوں سے چھپے ہوئے ٹیلے ،صحراء کے ببول ، برف کی سفیدی ،اور مشرق میں سورج کی سرخی شعاعیں ، زمین کا دامن زندگی سے بھرگیا ، پرندے ،حیونات ، جنگل ونباتات کلیا ں اورتتلیاںلیکن اس کے باوجود انسان کا وجود نہیں ہے ،
پہلا انسان ، آدم
رحمت کی گھڑی اورلطف خداکے وقت خدانے کھنکتے ہوئے پتلےمیںاپنی روح پھونک دی اسے چھینک آئی تو کہا الحمد للہ ،،آدم اٹھے ، ان کے اندر روح دوڑ گئی ،اور اچھے خاصے بشر بن گئے ، سانس لینے لگے ، آنکھو ں کو ادھر ادھر پھرانے لگے ، غور وفکر کرنے والا انسان بن گئے ، اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے ہیں ، چلتے ہیں ، اچھا برا سمجھتے ہیں ، حق کو سمجھتے ہیں او ر باطل کو محسوس کرتے ہیں ، خیر وشر سے واقف ہیں ترقی وبربادی سے آگاہ ہیں ، اﷲ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجد ہ کریں ۔ اسے سجدہ کریںجسے خدانے اپنے ہاتھ سے بنایاہے ، سارے ملائکہ نے سجدہ کیا ، ملائکہ تو صرف خداکی اطاعت جانتے ہیںاور بس .. وہ ہمشیہ خداکی تسبیح میںرہتے ہیں.. ہر وقت خداکی بارگاہمیںجھکے رہتے ہیں، انھوںنے انسان کو سجدہ کیا ہ کیونکہ اسے خدانے زمین پر خلیفہ مقررکیاہے ، اس کا مرتبہ ملائکہ سے بلند ہے ، لیکن یہاں ایک اور مخلوق ہے جو آدم کو سجدہ نہیں کرتی ہے ..ایک جن ہے جسے خدانے ہمارے بابا آدم سے چھ ہزار سال قبل خلق کیاتھا ..یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ چھ ہزار سال اس زمین کے ہیںیا ان کواکب کے ہیں کہ جنہیں ہم نہیںجانتے ۔ جنات کو خدانے آگ سے پیدا کیاہے ..ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا اﷲکی اطاعت نہیں کی ،اپنے دل میں کہا :میں آدم سے افضل ہوں کیونکہ وہ آگ سے پیداہواہے ، ابلیس نے تکبرکیا..مٹی سے پیداہونے والے کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، سارے ملائکہ نے سجدہ کیا ۔ملائکہ اﷲ کی اطاعت کرتے ہیں،اس کے نام کی تسبیح پڑھتے ہیں اس کی ذات کی تقدیس کرتے ہیں ، ابلیس جنوں میںسے تھا ،اس نے اﷲ کا عصیان کیا اورآدم کو سجدہ نہ کیا ، اﷲ نے فرمایا :اے ابلیس تو نے آدم کو کیوںسجدہ نہیں کیا ؟ابلیس نے کہا :میں اس سے افضل ہوں،تو نے مجھے آگ سے پیداکیا ہے اور آدم خاک سے پیداہوئے ہیں ،آگ خاک سے افضل ہے ،تکبر کرنے والے ابلیس کو خدانے اپنی بارگاہ سے نکال دیا ،اپنی رحمت سے دورکردیا ،اسی وقت سے ابلیس آدم کا دشمن ہوگیا ، پہلے آدم سے حسد کیا،پھر ان کا دشمن ہوگیا ،ابلیس متکبر ،حاسداور کینہ توز مخلوق ہے اپنے علاوہ کسی کو نہیںدیکھنا چاہتاہے وہ آدم کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے لگا ،انھیں کیسے دھوکہ دیا جائے اورکیسے بہکایا جائے اﷲ نے اے اپنی رحمت سے دور کردیا ،اس سے فرمایا :نکل جا کہ تو مردود ہے ،اور روزجزاء تک تجھ پرمیری لعنت ہے ،ابلیس نے کہا :اے میرے رب مجھے روزجزاء تک کی مہلت دیدے اﷲ تعالی نے فرمایا :روزجزاء تک انتظارکرو .. وقت معلوم تک ، ابلیس نے کہا :میرے رب تو نے مجھے گمراہ کیاہےمیںبھی انھیں گمراہ کرنے کے لئے تیرے سیدھے راستہ میں بیٹھ جاؤں گا اور سب کو گمراہ کرونگا ،کتنا ملعون ہے ابلیس ..کتنا جھگڑالو اور جھوٹا ہے ،خداپر تہمت لگارہا ہے کہ تو نے مجھے گمراہ کیاہے ،معصیت کرنے پر خود کو لائق ملامت نہیںسمجھتا ..یہ نہیںکہتا کہ ااس نے آدم سے حسد کیااوران سے دشمنی کی ،بڑابننے کی وجہ سے نہ سجدہ کیااور نہ اﷲکی اطاعت کی ،اس طرح کافرہوگیا ،پہلے تکبرکیا اورپھر کافر ہوگیا ،اس نے خود کو آدم سے افضل سمجھا ،اس لئے کہ و ہ آگ سے پیداہواہے اور آدم کی اصل مٹی ہے ،خاک ہے ،ابلیس انانیت پسند ہے ..وہ یہ بھول گیاکہ اسے اﷲ نے پیداکیاہے ،اس نے اسے حکم دیا ہے اس کے حکم کی تعمیل ضروری ہے
حضرت حوا
پہلے اﷲ نے صرف آدم کو خلق کیا ..پھر ان کے لئے حواء کو پیدا ،زوجہ کو دیکھ کرآدم بہت خوش ہوئے وہ بھی ان سے ملکر بہت خوش ہوئیں ،اﷲ نے ہمارے بابا آدم اور اماںحوا کو جنت میں جگہ مرحمت کی، جنت بہت اچھی جگہ ہے ..نہایت خوبصورت وپرکیف ،وہاں بہت سی نہریں اور ہمیشہ ہرے رہنے والے درخت ہیں ،وہاں کی فضا میںسانس لینے سے انسان خود کو خو شبخت سمھتا ہے ، ہمارے پروردگار ،اﷲ نے آدم سے فرمایا :تم اپنی زوجہ کے ساتھ جنت میں مقیم ہوجاؤ، دونوںجو چاہوکھاؤ جیسے چاہے رہو اور جو پسند ہو کھاؤ اس میں تم عنقریب خو شبخت ہوجاؤگے ، جنت میں تھکان اور بھوک وغیر ہ نہیں ہے ، لیکن دیکھو !اس درخت کے نزدیک نہ جانا .. خبر دار ابلیس کی باتوں میںنہ آجانا .. وہ تمہیں دھوکہ دینے والا ہے وہ تمہارااور تمہاری زوجہ کا دشمن ہے اے آدم وہ تم سے حسد کرتاہے تمہارابراچاہتاہے ، آدم اور ان کی زوجہ حوا جنت میں چلے گئے اس کے سایوں سے لطف ہونے لگے اس کے پھل کھانے لگے ، آدم وحوا دونوں ہی کامیاب تھے ۔ بہت ہی خوش نصیب تھے ..کیوں نہ ہو کہ خدانے انھیں اپنے ہاتھ سے پیداکیاہے ۔انھیں ہر چیز عطاکی ہے ، ان سے ملائکہ محبت کرتے ہیں کیونکہ خدانے انھیں پیداکیاہے اور ان سے محت کرتاہے ، آدم وحوا جنت میںا دھر ادھر ٹہلتے تھے ، اس کے پھل اور میوے چنتے تھے ، جنت کی نہروں کے ساحل پربیٹھتے تھے ۔ پرکیف ساحل ،یاقوت وعقیق سے بھی زیادہ خوبصورت ساحل پربیٹھتے ،اوراسکے صاف وگوارہ پانی سے پاؤں دھوتے تھے ،وہاںلذیذ وصاف شہد کی نہریں ہیں،اور دودھ کی نہریں ہیں ، پرندے اور کلیاں ہیں ، آدم وحوا کی کامیابی وخوش قسمتی کی کوئی انتہا نہیںہے ، جنت کی ہرچیز ان کے لئے ہے اس کے درخت اور پھل ..ہرپھل کھاتے ہیں،مختلف رنگ وذائقہ کے پھل ،ہر ایک مرغوب ہے ، ہردفعہ اچھا وہ ن جنت کے وسط میں اس درخت کے قریب سے گذرتے ہیں .. بہت اچھا درخت ہے پھل جھکے ہوئے ہیں ،لیکن یہ دونوں اسے دیکھکر رہ جاتے ہیں ، کیونکہ خدانے دونوں کو اس کے پاس جانے سے اور اس کا پھل کھانے سے منع کیاہے ،
ابلیس ،انسان کا دشمن
ابلیس کو ملائکہ کی صفوں سے نکال دیاگیا ..پہلے ہی امتحان میں اس کی ..حقیقت کھل گئی ،اس کی انانیت ظاہر ہوگئی ،تکبر کھل گیا ،ملعون ومردود ہوگیا ،اب ملائکہ کے درمیان میں اس کی کو ئی حثیت نہیں ہے ،ابلیس آدم اوران کی زوجہ سے بغض وحسد رکھنے لگا ، اب وہ ہر وقت اس فکرمیں رہنے لگا کہ آدم وحوا ء کو دھوکہ دیکر دونوں کو جنت سے نکال دے اس نے سو چامیں اس کو دھوکہ دینا جانتاہوں جانتاہوں کہ یہ دونوں میری بات پرکان دھریں گے ،میںانھیں اس درخت کا پھل کھانے کے لئے کہونگا پھر آدم بدخت اور بد نصیب ہوجائیں گے ،میری ہی مانند مردود ہوجائیں گے پھر خداانھیں جنت سے نکال دے گا ،حواء کا بھی یہی حال ہوگا ۔
درخت
ابلیس ،آدم وحواء کے پاس آیا ..تاکہ انھیں فریب دے سکے کہنے لگا :کیاتم نے جنت کے سارے درخت دیکھے ہیں؟آدم نے کہا :ہاں ہم نے سارے درخت دیکھے ہیں،ان کے پھل کھائے ہیں ابلیس نے کہا :اس سے تمہیں کو ئی فائدہ نہ ہوگا ،تم نے درخت خلد کا پھل توکھایا ہی نہیں وہ ہمیشہ رہنے والی دنیا کا درخت ہے جہاں ہمیشہ کی زندگی ہے ،ابلیس نے انھیںدھوکہ دیتے ہوئے کہا :اگراس کا پھل کھاکرہمیشہ کی زندگی نہ ملتی تو اس کے پھل کھانے سے تمہیں نہ روکا گیاہوتا ، اسی لئے روکا گیاہے تاکہ تم دونوںملک نہ بن جاؤ ، تمارے رب نے تم سے یہ کیوں کہاہے ،اس درخت کے قریب نہ جانا ،میں تم دونوں کو نصیحت کرتاہوں کہ اس کا پھل کھاؤ کہ تم ملک بن جاؤگے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئیگی ،جاوید ہوجاؤ گے اور ابد تک اس جنت کی نعمتوں سے لذت اندوز ہوگے ،آدم نے زوجہ سے کہا :میں کیسے اپنے رب کی نافرمانی کروں،نہیں،،نہیں،ابلیس نے کہا :آؤمیںتمہاری راہنمائی کرتاہوں،وہ جنت کے بیچ میں ہے ابلیس چلا اور آدم وحواء بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیئے ، ابلیس تکبر کے ساتھ جارہاتھا ،اس نے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :یہی وہ درخت ہے؟دیکھو تو کتنا اچھا ہے .. دیکھو اس کے پھل کتنے مرغوب وپسندیدہ ہیں ،حواء نے دیکھا ..آدم کی آنکھیں بھی ادھراٹھیں ..واقعا بہت جاذبہ نظر ہے..پھل کتنے مرغوب ہیں ..گندم جیسا درخت ہے ..لیکن اس کے پھل مختلف ہیں،سیب وانگور ،ابلیس نے کہا :اس کا پھل کیوںنہیں کھاتے ..؟میںقسم کھاکر کہتا ہوں کہمیںتمہارا خیر خواہ ہوں ..میںتہیں اس کا پھل کھانے کی نصیحت کرتاہوں ،ابلیس نے آدم وحواء کے سامنے یہ قسم کھائی ،کہ وہ ان کا خیر خواہ اور ان کی دائمی زندگی کا خواہاں ہے اس خوفناک وقت میں آدم اپنے رب کو بھول گئے اور اس عہد کو فراموش کردیا جو اس سلسلےمیںخدانے ان سے لیاتھا ، سوچا کہ وہ خداکا ذکر کرتے ہوئے باقی رہ سکتے ہیں اور اسی وقت یہ سوچاکہ ہمیشہ کی زندگی مل رہی ہے ،اسی خطرناک گھڑی میں حواء نے ہا تھ بڑھاکر اس درخت سے پھل توڑ کرکھالیا ۔واقعا بہت لذیذ ہے اسمیں سے آدم کو بھی دے دیا ،آدم میثاق بھول گئے اور پھل کھالیا ، ابلیس خوشی سے اچھلنے لگا .. ایک شیطانی قہقہ لگایا ..یقینا آدم وحواء کو بہکانےمیں کامیاب ہوگیا ،
زمین پر
جب آدم وحواء نے اس درخت کا پھل کھایا اسی وقت ایک عجیب چیز وجود میں آئی کہ جنت کا لباس ان کے بدن سے گرپڑا عریان ہوگئے ان کے پوشیدہ چیزیں،شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں ، دل دل میںدونوں پشیمان تھے ،تین اور کیلے کے پتہ توڑے تاکہ ا ن سے لباس بناکر اپنی شرمگاہوں کو چھپائیں، دونوں ہی نادم ،خوف زدہ اورشرم کے مارے پشیمان تھے ..یقینا دونوں نے نافرمانی کی تھی ۔اﷲ کا کلام نہیں سنا ،شیطان کی بات پرکان دھرے ،جو انھیںتنہا چھوڑکر بھاگ گیا .آدم وحواء نے سنا کہ کوئی انھیں پکاررہاہے ..یہ خداکی آواز تھی ،فرماتاہے کیا میں نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے نہیں روکا تھا ،کیامیں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونون کا دشمن ہے اس کے فریب میں نہ آنا ،آدم وحواء اپنی خطاء پر رونے لگے ۔اے کاش انھوں نے شیطان کی بات نہ سنی ہوتی ،انھوں نے شر مند گی کے ساتھ خداکی بارگاہ میں جھک کر کہا :پروردگار ہم تیر ی بارگاہ میںتوبہ کرتے ہیں ، اب ہماری توبہ قبول کرلے ،ہمارے ترک اولیٰ سے درگذر فرما ،پالنے والے ہم نے نفسوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں کرے گا تو ہم ضرور گھاٹا اٹھانے والوں سے ہو جائیں گے ،آدم پہلے سے یہ جانتے تھے کہ استغفار ،توبہ اور ندامت سے خطا معاف ہوجاتی ہے لہذا توبہ کی ..اور اﷲ سے لو لگائی اﷲ ہمارا رب ہے ،اپنی مخلوقات پر مہربان ہے اس نے ان کی توبہ قبول کی ، لیکن جس نے اس درخت کا پھل کھلایا اور جس سے ترک اولیٰ ہوگیا اسے اس کی تلافی کے لئے جنت سے نکلنا پڑے گا ،اﷲ تعالی نے فرمایا :تم سب زمین پر اترو ..تم دونوں اور ابلیس زمین پراترجاؤ تمہارے اور اس کے درمیان عداوت جاری رہیگی ،آئندہ بھی وہ دھوکہ دیگا لیکن جو میرے امر کی پیروی کریگا اور میرے کلمات کا اتباع کرے گا اسےمیںجنت میںجگہ دوں گا ،لیکن جو جٹھلائے گا اور کفر اختیار کرے گا تو اس کا راستہ شیطان ہی جیسا راستہ ہوگا ،
اﷲ تعالی نے فرمایا :اترجاؤ !تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ،اب زمین پر ہی تمہا ر ا ٹھکانہ ہےاور وقت معلوم تک وہیں عیش کی زندگی گذارو !زمین ہی پر تمہیں زندگی گذارناہے اور وہیں مرنا ہے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے ، جنت سے سب اترجاؤ ،پھر تم میںسے جس تک میری ہدایت پہنچے گی اور وہ اس کا اتباع کریگا تو وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بد بخت اور جس نے ہمارے ذکر سے روگر دانی کی تو اس کی روزی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھا ئیں گے ،
آدم وحواء کرہ زمین پر زندگی گذارتے ہوئے ڈررہے تھے ، آدم پر ان کی پوشیدہ شی نکل گئی تھی ،وہ زمین پرخلیفہ ﷲکے فرائض اداکرنے ،اسے آباد کرنے اور اسے بسانے اور اس میںفساد نہ کرنے کے لئے تیار ہوئے ،لہذا ملائکہ نے انھیں سجدہ کیا ، ملائکہ یہ تصور کرتے تھے کہ آدم عنقریب زمین پر فساد پھیلائیں گے اور اسمیںخونریزی کریں گے ،لیکن آدم ان چیزوں کو بھی جانتے ہیںجہنیں ملائکہ نہیں جانتے ،آدم ان اسماء سے واقف ہیں جن سے ملائکہ واقف نہیں ہیں،ملائکہ نہیںجانتے کہ حریت وارادہ کیاہے اور توبہ کسے کہتے ہیں ..نہ انھیں خطاکی خبر ہے اور نہ انھیں یہ خبر ہے کہ خطاکرنے والا اپنی خطاکی کس طرح اصلاح کرتاہے اورکیسے توبہ کرتاہے ، اس کے لئے اﷲ نے آدم کو پیداکیاتاکہ وہ زمین پر اس کے خلیفہ قرار پائیں ، پھر آد م وحواء خداکی قدرت مطلقہ سے زمین پراتر ے ، ابلیس بھی اترا ، ان میںسے ہر ایک زمین ہی کے کسی خطہ میں اتراء آدم سری لنکا کے پہاڑ کی چوٹی پراتر ے اور حواء سر زمین مکہ کے مروت پہاڑ پراتریں، ابلیس خشکی کے پست ترین خطہ میںاتر ا ، خلیج سے قریب بصرہ میں نمک کی وادی میںاترا ، اس طرح روئے زمین پر انسان کی زندگی کا آغاز ہوا ، اور شیطان اور انسان کے درمیان جنگ شروع ہوگئی ، جس وقت ہمارے بابا آدم اور اماں حواء زمین پراتر ی تھیںاس وقت زمین پر اور بہت سے حیوانات زندگی بسر کررہے تھے ،۔
مگر وہ ہزاروں برسوں سے تہ درتہ برف کا مقابلہ نہیں کرپارہے تھے ٹھٹھرکرمرجاتے تھے ،ایک جانور الما موت تھا جو ہاتھی جیساتھا لیکن اس کی کھال اون میںچھپی رہتی تھی ، یہ جانور سیریہ کے علاقہ میںپایا جاتاتھا ،اسی جیسا ایک اور حیوان تھا ..جس کے سرپر ایک سینگ بھی تھا ،یہ بھی اون میںچھپاہواتھا ،برف وٹھنڈک کی یہ بھی تاب نہ لاسکا ،اس کی نسل نابود ہوگئی ،اور عجیب وغریب پرندے تھے ، خداکے حکم سے آدم وحواء زمین پراتر ے تاکہ انسان زمین پرخداکا خلیفہ ہوجائے ،بوئے، تعمیر کرے ،اور اس حسین خطہ کو آباد کرے ،
آخری تازہ کاری (پیر, 04 مئی 2009 22:27)











Google
Facebook
Twitter
Myspace
Linkedin
Yahoo
Digg
del.icio.us
Windows Live
Blogger
Rain Concert
















