ہما رے موضوعی ویبلوگ
اسلامی فوٹو گیلری
گوگل میں سائٹ کا رتبہ
امتیاز گوگل من
Translated by: PersianIT.ir
انّ الفرصۃ تمرّ مرّ السّحاب
Ulti Clocks content
PGT SocialWeb
Share to Facebook Share to Twitter Share to Linkedin 
اصلی صفحه متفرقہ مضامین مختلف مضامین عالمی یوم قدس،فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی

PostHeaderIcon عالمی یوم قدس،فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی

عالمی یوم قدس،فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی

دنیا میں شاید ہی کسی قوم پر اتنے ظلم ہوئے ہوں جتنے مسلمانوں پر ہوئے ہیں،مسلمانوں میں بھی ملت فلسطین بے حد مظلوم ہے ،ملتوں کی بدبختی اور بربادی اکثر بڑی طاقتوں کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ،اور بڑی طاقتیں لوگوں کو ناحق ستانا اپنا حق سمجھتی ہیں،فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردعورتوں اور بچوں پربھی مظالم روا رکھے ہوئے ہیں فلسطینی مسلمان اپنے ہی ملک میںپرائے اور بیگانے بنادیئے گئے.فلسطینیوں کی بد نصیبی یہ بھی رہی کہ انہیں مخلص و متحدقیادت نہ مل سکی،فلسطین میں 8بڑی تنظیمیں تھیں جنہوں نے مقاومت کا بیڑا اٹھایا تھا ،ان تنظیموں کے اکثر قائد عیسائی تھے اور جو مسلمان تھے وہ بھی گاہے گاہے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہتے تھے ،فلسطین کی بڑی تنظیم فتح کے سربراہ یاسر عرفات ہی کی مثال لے لیجئے کہ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ اور شرم الشیخ جیسے مقامات پر مسلمانوں کے خلاف رچی جانے والی سازشوں میں کس طرح حصہ لیا ،اور شادی بھی رچائی تو یہودی عورت سے، تو پھر بھلا کامیابی کس طرح ملتی؟ ! اور آج کل محمود عباس یاسر عرفات کی جگہ ہیں اوریہ بھی تمام سازشوں میں شریک ہیں ،ایسے موقع پر تنہا حماس کیا کرے،اس طرح ملت فلسطین اور بھی زیادہ مظلوم قرار پاتی ہے . بہر حال1948میںامریکہ نے اسرائیل کو جنم دے کر مسلمانوں کا خون چوسنے کے لئے بے مہار چھوڑ دیا تھاجس سے فلسطینیوں پر ایسے مظالم کا سلسلہ شروع ہوا جو تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا کیونکہ اسرائیل نے قبضہ کے بعدفلسطین میں اپنے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے دی تھی . یہودی دہشت گردوں کے ذریعہ 9اپریل1948کو’’ایرگون زوای لعومی اور اس کے دستے اشترن‘‘نے 254عربوں کو’’ دیر یاسین ‘‘میں قتل کیا،دیر یاسین کا یہ قتل عام بہت مشہور ہے ،اس قتل عام کے بعد جب ریڈ کراس کی ٹیم یہاں پہنچی تو اس نے ایک تالاب سے 150لاشیں مزید نکالیں اور اس تالاب کے کنارے پر 50لاشیں اور ملیں ،اس کے علاوہ 145لاشیں عورتوں کی تھیں جن میں 35حاملہ تھیں ،اس کے بعد ان درندوں نے ’’صالحہ‘‘ نام کے گاؤں پر دھاوا بول کر 85مردوں کو پکڑلیا اوران کی عورتوں اور بچوں کے ساتھ مسجد کے پاس لے آئے،ان سب کو مسجد کی دیوار کے نیچے صف بستہ گولیوں سے بھون ڈالا،پھر ان کو پھانسی پر لٹکایاگیا اور اس کے بعد ان 85لاشوں کو مسجد کے صحن میں رکھ کر آگ کے حوالے کردیا جس سے لاشوں کے ساتھ ساتھ پوری مسجد میں آگ لگ گئی اور پھر اس ادھ جلی مسجد کو جلے ہوئے لاشوں پر گرادیا ،یہ سارا منظر ان 85مقتولین کی عورتیں اور سہمے سہمے بچے اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے،دیر یاسین کے قتل عام کے 12روز بعد ’’ہاگانا‘‘اور ’’ایرگون‘‘یہودی حیفہ پر قبضہ کرنے کے لئے متحد ہوگئے ،جیسے ہی ان کی تباہی حیفہ شہر میں شروع ہوئی 62000عربوں سے 57000عرب اس شہر سے فرار کر گئے .اکتوبر 1953میں وہ 53گاؤں والے جو فائرنگ کے ڈر سے اپنے گھروں میں مقید ہوگئے تھے اسرائیلی دہشت گردوں نے ان کے گھروں کو بموں سے دھماکہ کرکے اڑادیا اور ان 53لوگوں کے ،مکانوں کے ساتھ پرخچے اڑ گئے ،اسی طرح خان یونس میں اپریل1956میں 275لوگ ،یہودی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے ،’’کفرقاسم‘‘ میں اکتوبر 1956میں 51دیہاتی مارڈالے گئے جن میں آدھے سے زیادہ عورتیں اور بچے تھے،ان سب مظالم سے پیدا ہونے والی رعب و وحشت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اکثر فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑ کر جان بچانے کی غرض سے بھاگ کھڑے ہوئے اور پوری پوری بستیاں خالی ہوگئیں، پھراسرائیلیوں نے ایک فرضیہ وضع کیا کہ ’’فلسطین ایسی سرزمین ہے جس میں مکان ہیں مگر مکین نہیں ہیںاور یہود ایسی قوم ہے جس کے پاس سرزمین نہیں ہے لہٰذا ایسی سرزمین جہاں کوئی رہنے والانہ ہو وہ ایسی قوم ﴿یہود﴾ سے متعلق ہے جس کے پاس سرزمین نہیں ہے ‘‘اس فرضیہ کو بنیاد بنا کر اسرائیل نے فلسطینیوں کے شہروں ،قصبوں اور دیہاتوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا اور ایک روز اپنے اسی فرضیے کی بنیاد پر اسرائیل نے اقوام متحدہ میں فسلطین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ ٹھوک دیا جس میں دھانس کا کام امریکہ نے کیا اور بڑی آسانی سے پوری ملت فلسطین کو دربدر کرکے یہودیوں نے ان کے کاشانوں پر قبضہ کرلیا
،اس تما م ماجرے کو اقوم متحدہ، حقوق انسانی کی تنظیمیں اور عورتوں و بچوں کے حقو ق کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیمیں خاموشی سے دیکھتی رہیں اور کچھ نہ کرسکیں ،کرتیں بھی کیسے امریکہ جوویٹو کے ذریعہ اسرائیلی دہشت گردی پر مہر تائیدثبت کرتا رہتا ہے. امریکہ اتنا پُر خطر کام انجام دے رہاہے جس سے مشرق وسطیٰ میں اس کی پالیسیاں پوری طرح ناکام ہوچکی ہیں ،دنیا سے اس کاا عتبار ختم ہورہاہے ، دو پیمانے رکھنے پر امریکہ سے سب نالاں ہے ،مسلمانوں میں امریکہ کے تئیں نفرت کا گراف تیزی سے بڑھ رہاہے ،یہ تمام نقصانات ،رسوائیاں اور بدنامیاں ایک طرف اور اسرائیل کی حمایت ایک طرف ،اور اس وقت تو امریکی اور یورپی ڈھٹائی کی انتہا ہوجاتی ہے جب یہ لوگ عراق و افغانستان پر دہشت گردی اور کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بناکر حملہ کردیتے ہیں جبکہ یہ دونوں چیزیں اسرائیل میں سب سے پائی جاتی ہیں ،لیکن میڈیا پھر بھی اسرائیلیوں کو دہشت گرد کہنے کو تیار نہیں ہے ،ایسا کرکے میڈیا نے اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کی ہے ،میڈیا کا کام ہی یہ ہے کہ دنیا میں حقیقت کو نشر کرے مگر﴿اسرائیلی دہشت گردی ﴾ ایسی حقیقت ہے جسے نشر کرنے کو کوئی میڈیا تیار نہیں ہے ،امریکہ اسرائیل کو تنبیہ تو کیا کرتا اس کی خوشامد اور دہشت گردی پر حوصلہ افزائی میں لگا ہوا ہے ،کیا ایسی دوغلی پالیسی رکھنے والے امریکہ کو یہ حق ہے کہ وہ کسی ملک پر دہشت گردی یا کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر حملہ کردے . حد ہوگئی دہشت گردی پر پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے 1948﴿اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد ﴾سے امریکہ اسرائیل کو 60ملیارڈ ڈالر بغیر سود و واپسی دیتا آرہا ہے،جو وقتاً فوقتاً بڑھتی رہتی ہے چالاک یہودی اس ایڈ کو کبھی حزب اللہ سے خوف دلاکر اور کبھی ایران کا ہوا کھڑا کرکے اس ایڈ کو بڑھواتے رہتے ہیں، اس بخشش سے ہر اسرائیلی کے حصہ میں اوسطاً 20ہزار ڈالریا اس سے زیادہ آتے ہیں جب کہ امریکہ میں دسیوں لاکھ امریکی شہری بے روزگار تھے ،اور اسرائیل نے تقریباً 25سال پہلے امریکی بجٹ سے 42%رقم ،امریکہ کی جانب سے غیر ممالک کو امداد کے طور پر دی جانے والی رقم سے،48%غیر ممالک کو اسلحہ خریدنے کے لئے دی جانے والی رقم سے اور 56%غیر ممالک کی فوجی امداد کے لئے دی جانے والی رقم سے جھپٹ لئے جس پر امریکی صدر کے معاون ’’مانڈیل‘‘ نے کہاتھا کہ کسی بھی ملک کو اسرائیل کی برابر امریکی امتیازات نصیب نہیں ہوتے ،امریکہ کی اسرائیل کو اس بے دریغ حمایت پر امریکی صدر جمی کارٹر کہہ چکے ہیں کہ :’’میں اسرائیل کی بغیر سوچے سمجھے آنکھ بند کرکے حمایت کے مقابلے سیاسی خود کشی کو ترجیح دیتا ہوں ،امریکی صدر ایسے کتنے ہی بیان دینے کے بعد بھی امریکی پالیسی تبدیل نہ  ہو سکی کیونکہ یہودیوں کی امریکہ میں 3%آبادی امریکہ کی 80%ثروت پر قابض تھی،اس کے علاوہ امریکہ میں یہودی تاجروں کی تعداد 77%تھی اور امریکی تاجروں کی تعداد 23%،یہودی وکیلوں کی تعداد 70%تھی اور امریکی وکیلوں کی تعداد30%،یہودی ڈاکٹروں کی تعداد 69%تھی اور امریکی ڈاکٹروں کی تعداد 31%،یہودی پیشہ وروں کی تعداد 43%اور امریکی پیشہ وروں کی تعداد 57%،یہودی سرکاری ملازموں کی تعداد 38%اور امریکی ملازموں کی تعداد 62%،کارخانوں میں مزدوری کرنے والے یہودیوں کی تعداد 2%اور امریکی مزدوروں کی تعداد 98%،یہودی کسانوں کی تعداد 0.1%اور امریکی کسانوں کی تعداد 99.9%،یہودی بے روزگاروں کی تعداد 0%اور امریکی بے روزگاروں کی تعداد 100%تھی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے .لہٰذا امریکہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کے ہر ظلم میں برابر کا شریک ہے.ادھر فلسطینی مسلمان ہیں کہ جن کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ،کبھی اردن نے فلسطینیوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا اور ستمبر 1971میں 15ہزار فلسطینی مسلمانوں کو شہید کرڈالا، تو کبھی مصر نے کیمپ ڈیوڈ میں ان کے خلاف سازشیں رچیں ،کبھی پاکستان نے اپنے چاول اور شکر ﴿چینی﴾ دے کر اسرائیل سے اپنے رشتوں میں مٹھاس گھولنے کی کوشش کی ،کبھی ترکی نے دوستانہ پینگیں بڑھائیں تو کبھی سعودی عرب نے خاموشی کا لبادہ پہن کرفلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو جواز فراہم کیا،یہ تنہا قوم تھی جو سپر طاقتوں کے نت نئے مظالم کے لئے تختۂ مشق بنی ہوئی تھی .البتہ خود بخود دنیا کی تمام تنظیموں ،ملکوں اور اداروں سے جو انسانیت کا دم بھرتے نہیں تھکتے نفاق کی نقاب اتر گئی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ دہشت گردی ،حقوق انسانی ،حقو ق خواتین ، بچوں کے حقوق اورسیکولرزم جیسی اصطلاحیں صرف کھوکھلے نعرے اور بڑی طاقتوں کے ہتھکنڈے ہیں باقی کچھ نہیں ہے اور دنیا میں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کا نظام قائم ہے.امام خمینی نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد فلسطینیوں پر خصوصی توجہ دی اور ان کے پامال شدہ حقوق کی بازیابی کے لئے ہر ممکن کوشش کی ،انہیں کوششوں میں ایک یہ بھی تھی کہ آپ نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنے کی خاطر ماہ رمضان کے آخر ی جمعہ کو فلسطینیوں سے ہم بستگی اوریکجہتی کے اظہار کے لئے عالمی یوم قدس کا نام دیا اور پھر سرکاری سطح پر پورے ایران میں ہرسال رمضان المبارک کا آخری جمعہ ﴿جمعۃ الوداع ﴾عالمی یوم قدس کے طور پر منایاجانے لگا ،جمعہ کی نماز سے 3گھنٹہ قبل یہ پروگرام شروع ہوتا ہے ، ہر شہر کے سینٹر سے جم غفیر جو پہلے ہی اکٹھا ہوجاتا ہے جلوسوں کی شکل میں بڑے بڑے بینر ،پوسٹر،پلے کارڈ﴿جن پر مسئلہ فلسطین سے متعلق مفید جملے لکھے ہوئے ہوتے ہیں﴾اٹھائے امریکہ اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتا ہوا ﴿مرکزی﴾نماز جمعہ کی طرف چلتا ہے ،وہاں پہنچ کر یہ جلوس نمازکی صفوں میں تبدیل ہوجاتا ہے ،نماز جمعہ اور اس کے خطبوں سے پہلے کسی وزیر یا علاقے کے ایم پی کی تقریر ہوتی ہے جو مسئلہ فلسطین پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ایرانی عوام کو فلسطینیوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنے پر زور دیتے ہیں ،اس کے بعد امام جمعہ اپنے ایک خطبہ کو مسئلہ فلسطین سے مخصوص کرتے ہوئے تفصیل سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی اس سازش پر روشنی ڈالتے ہیں ،بعدہ، فلسطینیوں کے لئے امداد اور عطیے اکٹھا کئے جاتے ہیں ،اس روز سرکاری سٹی بسوں کی اسپیشل سروس چلتی ہے جو تقریباً فری ہوتی ہے اور ہر بس کے پائیدان پر اسرائیل کا پرچم بچھا ہوا ہوتا ہے ،ایرانی میڈیا رمضان المبارک شروع ہوتے ہی مسئلہ فلسطین کی کوریج بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے اور پورے ملک میں اس موضوع پر اخبار ،میگزین، ریڈیو، ٹی وی ،سیریل،ڈراموں اور فلموں کے ذریعہ عوام کو بیدار کرنا شروع کردیتی ہے .یہ وہی ایران ہے جس میں امام خمینی (رح) کی قیادت میں انقلاب اسلامی سے پہلے شاہی حکومت نے اسلامی ملکوں میں سب سے پہلے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا تھااور ایران میں اسرائیل کا سفارت خانہ کھول کر اس سے اپنے تعلقات استوار کرلئے تھے ،امام خمینی (رح) نے اس وقت شاہ ایران کے اس اقدام کی مذمت کی تھی.اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں واقع اسرائیلی سفارت خانہ کا نام بدل کر’’سفارت فلسطین ‘‘﴿فلسطینی سفارت خانہ﴾ رکھ دیا گیا،جو ابھی بھی موجود ہے اور اس پرفلسطین کا پرچم لگا ہوا ہے،جو علامت ہے اس بات کی کہ ایران فلسطینیوں کو کتنی اہمیت دیتا ہے. فلسطینیوں سے ہم بستگی کے سلسلے میں امام خمینی کا ایک جملہ مسلمانوں کو ہمیشہ غور و فکر کی دعوت دیتا رہے گا وہ یہ : ’’کہ اگر سارے مسلمان مل کر اسرائیل پر ایک ایک بالٹی پانی انڈیل دیں تو اسرائیل غرق ہوجائے گا ‘‘اس جملے کے ذریعہ امام خمینی مسلمانوں کو بتادینا چاہتے ہیں کہ اسرائیلی دہشت گردوں کے مقابلہ مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں کے ایک ایک بالٹی پانی انڈیل دینے سے اسرائیل میں سیلاب آجائے گا لہٰذامسلمانوں کو اسرائیل سے ڈرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ،دوسرے یہ کہ فلسطینیوں کو اسرائیلی شر سے نجات دلانے کے لئے مسلمانوں کو زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہے اتحاد کی ضرورت ہے ، اتحاد کے ساتھ اٹھایا گیا چھوٹا قدم بھی اسرائیل کی نابودی کا سبب ہوگا ،یہ کنایہ ہے ایک ایک بالٹی پانی کی طرف. ،ہندوستانی مسلمان بھی مسئلہ فلسطین کے تئیں اگر متحد ہوجائیں اور توجہ کے ساتھ اس مسئلہ کو اہمیت دیں تو فلسطینی مسلمانوں کو تقویت پہنچے گی،ہندوستانی میڈیا اتنے اہم مسئلہ فلسطین کو سرے سے نظر انداز کئے ہوئے ہے ،مگر مسلمان یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں بچا سکتے ،اگر پورے سال نہ سہی تو کم از کم سال میں ایک بار تو جمعۃ الوداع کے موقع پر فلسطینی مسلمانوں سے اپنی ہم بستگی اور یکجہتی کا اظہار کر سکتے ہیں اس کے لئے پُر امن جلوس امریکی اور اسرائیلی سفارتخانوں تک جا کر اپنا احتجاج در کراسکتے ہیں اور تمام مساجد اور نماز جمعہ میں خطیب حضرات اس مسئلہ سے مسلمانوں کو آگاہ کرسکتے ہیں ،اخبار ،میگزین وغیرہ میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالی جا سکتی ہے .اس وقت فلسطینیوں کو زبانی حمایت کی بھی سخت ضرورت ہے جس میں ہمیں بخل سے کام نہیں لینا چاہئے

آخری تازہ کاری (منگل, 23 اگست 2011 12:10)

 

PostHeaderIcon معصومین علیہم السلام کے روضوں کی زیارت


حدیث
امام حسین (ع) کے چند زرین اقوال حدیث -۱- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” یا اعرابی نحن قوم لا نعطی المعروف الا علی قدر المعرفة “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :” ہم اہل بیت بخشش نہیں کرتے مگر لوگوں کی معرفت کے مطابق“۔ حدیث -۲- قال الامام الحسین علیہ السلام : ” ان اجود الناس من اعطی من لا یرجوہ “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں: ” سب سے بڑا سخی وہ انسان ہے جو کسی ایسے کو عطا کرے جس سے کسی قسم کی توقع نہ ہو “ حدیث -۳- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” ان اعفیٰ الناس من عفا عن قدرة “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں :” سب سے بڑا عفو کرنے والا انسان وہ ہے جو قدرت ہونے کے باوجود معاف کر دے “ ۔ حدیث -۴- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” ان اوصل الناس من وصل من قطعہ “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں : ” سب سے زیادہ صلہٴ رحم کرنے والا انسان وہ ہے جو قطع رحم کرنے والوں سے تعلقات قائم کرے “ ۔ حدیث -۵- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” من نفس کربة مومن فرج اللہ عنہ کرب الدنیا و الاخرة “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں: ” جو کسی مومن کے کرب و غم کو دور کرے ،خدا اسکے دنیا و آخرت کے غم و اندوہ کو دور کرے گا “۔ حدیث -۶- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” موت فی عز خیر من حیات فی ذل “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں : ” ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کہیں بہتر ہے “ ۔ حدیث -۷- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” ان حوائج الناس الیکم من نعم اللہ علیکم فلا تملوا النعم فتحور نقما “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں : ” خدا کی نعمتوں میں سے ایک، لوگوں کو تمھارے پاس حاجت کے لئے آنا ہے پس اس نعمت پر حزن و ملال محسوس نہ کرو ورنہ یہ نعمت ، نقمت میں تبدیل ہو جائیگی “۔ حدیث -۸- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” ایھا الناس من جاد ساد ، و من بخل رذل “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں : ” لوگو! جود و سخاوت کرنے والا سردارقرار پاتا ہے ، اور بخل کرنے والا ذلیل و رسوا ہوتا ہے “۔ حدیث -۹- قال الامام الحسین علیہ السلام: ”ان المومن لا یسئی و لا یعتذر والمنافق کل یوم یسئی و یعتذر “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں: ” مومن نہ برائی کرتا ہے نہ ہی عذر پیش کرتا ہے جب کہ منافق ہر روز برائی کرتا ہے اور ہر روز عذر خواہی کرتا ہے “ ۔ حدیث -۱۰- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” من احبک نھاک و من ابغضک اغراک “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں: ”دوست وہ ہے جو تمہیں برائی سے بچائے دشمن وہ ہے جو تمہیں برائیوں کی ترغیب دلائے “۔ حدیث -۱۱- قال الامام الحسین علیہ السلام: ” انی لا اری الموت الا سعادہ ولا الحیاة مع الظالمیں الابرما “ ترجمہ: حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام فرماتے ہیں : ” میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتہ زندگی کو لائق ملامت سمجہتا ہوں “इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम 1- मित्र व शत्रु हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि आपका मित्र वह है जो आपको बुराईयों से रोके व आप का शत्रु वह है जो आपको बुरे कार्यों का निमन्त्रण दे। 2- वसीयत हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि मैं तुमको वसीयत करता हूँ कि अल्लाह से डरो व अपने स्वास्थ का ध्यान रखकर अपनी आयु को बढ़ाओ। और उन लोगों की भाँती न बनो जो दूसरों को पाप से डराते हैं परन्तु स्वंय पाप से नहीं डरते। 3- जिहाद के प्रकार हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि जिहाद चार प्रकार के हैं इन मे से दो जिहाद सुन्नत हैं तथा दो जिहाद फ़र्ज़ हैं। क- फ़र्ज़ जिहाद – (अ) व्यक्ति का स्वंय अपने वश से लड़ना (अर्थात व्यक्ति अल्लाह के आदेशों की अवहेलना न करना) तथा यह महान् जिहाद है। (आ) नास्तिक लोगों के साथ लड़ना ख- सुन्नत जिहाद (अ) शत्रु से जिहाद तथा यह जिहाद प्रत्येक उम्मत(समाज) पर अनिवार्य किया गया है। अगर यह जिहाद न किया जाये तो उम्मत(समाज) संकट मे घिर जायेगी और यह संकट स्वंय उम्मत द्वारा उत्पन्न किया गया होगा। इस प्रकार का जिहाद सुन्नत है। तथा इस जिहाद की सीमा यहाँ तक है कि इमाम उम्मत के साथ शत्रु की खोज मे निकले तथा उनसे जिहाद करे। (आ) दूसरा सुन्नत जिहाद यह है कि मनुष्य सुन्नतों को क्रियान्वित करने के लिए प्रयास करे। हज़रत पैगम्बर ने कहा कि प्रत्येक व्यक्ति जो सुन्नतों व अच्छाईयों को क्रियान्वित करता है उसको उसके कार्यो का बदला दिया जायेगा। तथा क़ियामत तक जो व्यक्ति उसके द्वारा क्रियान्वित सुन्नत पर पगबध होंगे उनका पुण्य भी उसको दिया जायेगा इस प्रकार कि उस सुन्नत पर पगबध होने वालों के पुण्य मे कोई कमी नही की जायेगी। 4- संसार का बदला रूप हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कर्बला की यात्रा के समय कहा कि संसार परिवर्तित व अपरिचित होगया है। इसने परिचितों की ओर से मुहँ मोड़ लिया है। यह संसार केवल एक चरी हुई चरागाह के समान शेष रह गया है। क्या आप नही देखते कि हक़ (शोभनीय) पर अमल नही हो रहा है व बातिल(अशोभनीय) से मना नही किया जारहा है। ऐसी स्थिति मे मोमिन (आस्तिक) का मरजाना ही अच्छा है। इस स्थिति मे मैं मृत्यु को भलाई तथा अत्याचारियों के साथ जीवित रहने को मृत्यु समझता हूँ। वास्तव मे लोग संसारिक मोह माया मे फसे हैं व धर्म केवल उनके कथन तक सीमित है। जब उनको विपत्ति के समय परखा जाता है तो धार्मिक लोग कम निकलते हैं। 6 –नेअमतो की अधिकता हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि अल्लाह जब किसी को अपनी ओर से ग़ाफ़िल (निश्चेत) करता है तो उसको अधिक नेअमते प्रदान करता है। तथा उससे शुक्रिये (धन्यवाद) की तौफ़ीक़ (सामर्थ्य) ले लेता है। 7- इबादत(आराधना) हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि एक समुदाय अल्लाह की इबादत स्वर्ग प्राप्ति के लिए करता है। तथा यह इबादत व्यापारियों वाली इबादत है। एक समुदाय अल्लाह की इबादत नरक के भय के कारण करता है। तथा यह इबादत दासों वाली इबादत है। एक समुदाय अल्लाह की इबादत इस लिए करता है कि अल्लाह को इबादत योग्य समझता है।तथा यह इबादत सर्वश्रेष्ठ इबादत है व सवतन्त्रता का संकेत देती है। 8- अत्याचार न करो हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि अल्लाह के अतिरिक्त जिसकी कोई सहायता करने वाला न हो उस व्यक्ति पर कभी भी अत्याचार न करो। 9- आवश्यकता हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि इन तीन लोगों के अतिरिक्त आपकी अवश्यक्ता को कोई पूरा नही कर सकता (1) दीनदार (अर्थात धार्मिक व्यक्ति ) (2) वीर पुरूष (3) अच्छा व्यक्तित्व रखने वाला। 10- बुद्धि मत्ता व मूर्खता हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि बुद्धिजीवियों की संगत मे बैठना बुद्धिमत्ता का प्रतीक है।मुसलमानो का आपस मे झगड़ना मूर्खता का प्रतीक है। अपने कथन की स्वंय आलोचना करना ज्ञानी होने का प्रतीक है। 11- नरक से मुक्ति हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि अल्लाह के भय से रोना नरक से मुक्ति का कारक है। 12- कंजूस हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि दूसरों को सलाम करने से बचने वाला व्यक्ति कंजूस है। 13- पापीयों के अनुसरण का पल हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि अगर कोई किसी के पास अल्लाह के आदेशों की अवहेलने करने के लिए एकत्रित हों तो वह जो इच्छायें ऱखते उनकी की पूर्ति न होगी और वह जिन चीज़ों से बचना चाहते हैं उनमे ग्रस्त हो जायेंगे। 14- नीचता स्वीकार नही करूँगा हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि मैं अल्लाह की सौगन्ध के साथ कहता हूं कि मैं कभी भी नीचता को स्वीकार नही करूँगा तथा क़ियामत (प्रलय ) के दिन हज़रत फ़ातिमा ज़हरा अपने हज़रत पिता से भेंट करेगीं और उन समस्त अत्याचारों की अपने पिता से शिकायत करेंगी जो पैगम्बर की उम्मत ने उनकी संतान पर किये हैं। और वह व्यक्ति जिसने हज़रत फ़ातिमा की संतान पर अत्याचार किये वह स्वर्ग मे नही जासकता। 15- क़ियाम(आन्दोलन) के उद्देश्य हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि मैं अपने आपको मनवाने, सुखमय जीवन व्यतीत करने,उपद्रव मचाने या अत्याचार करने के लिए नही निकला हूँ। बल्कि मैं चाहता हूँ कि इस्लामी समाज मे सुधार करू तथा लोगों को अच्छे कार्य करने के लिए प्रेरित करूँ व बुराईयों से रोकूँ व अपने नाना व पिता की सुन्नत(शैली) को क्रियान्वित करूँ। 16- शासन का अधिकार हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि हम अहलेबैत शासन के शासन कर रहे लोगों से अधिक हक़दार हैं। 17- इमाम के लक्षण हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि इमाम वह है जो कुऑनानुसार कार्य करे,न्याय के मार्ग पर चले व हक़ का अनुसरण करे तथा स्वंय को अल्लाह की प्रसन्नता के लिए समर्पित करदे। 18- शासन का अधिकार हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि ऐ लोगो अगर तुम अल्लाह से डरते हो और हक़ को हक़दार के पास देखने चाहते हो तो यह कार्य अल्लाह की प्रसन्नता के लिए बहुत अच्छा है।हम पैगम्बर के अहलेबैत शासन के अन्य अत्याचारी व व्याभीचारी दावेदारों से अधिक अधिकारी हैं। 19- अत्याचार के सम्मुख चुप रहने का फल हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि ऐ लोगो पैगम्बर ने कहा कि अगर कोई देखे कि एक अत्याचारी शासक अल्लाह द्वारा हराम की गयी चीज़ों को हलाल कर रहा है, अपने वचन से फिर रहा है, पैगम्बर की सुन्नत का विरोध कर रहा है, तथा लोगों के मध्य गुनाह व अत्याचार के आधार पर कार्य कर रहा है।तो अगर कोई इस स्थिति मे उसका क्रियात्मक व विचारात्मक विरोध न करे तो वह भी उस अत्याचारी के साथ ही नरक मे डाला जायेगा। 20- अल्लाह को नाराज़ करना हज़रत इमाम हुसैन अलैहिस्सलाम ने कहा कि वह व्यक्ति कभी भी सफल नही हो सकते जो अल्लाह की प्रजा को प्रसन्न करने के लिए अल्लाह को नाराज़ करदे।
اسلامی سائٹیں
تفصیلی فہرست