|
تحریر Administrator
|
|
اتوار, 29 اگست 2010 19:51 |

شب قدر توبہ واستغفار کي شب ہے ۔
شب قدرکي نہايت قدر کيجئے ۔
شب قدر وہ شب ہے جب فرشتے زميں کو آسمان سے متصل، دلوں پرنور کي بارش اور زندگي کو فضل ولطف الھي سے منور کرديتے ہيں ۔
 شب قدر روحاني سلامتي کي شب ہےدلوں اور جانوں کي سلامتي کي شب ہے ۔
شب قدر درحقيقت شب امام زمانہ اور شب ولايت ہے حضرت ولي عصر اوراحنا لہ الفداء کي طرف متوجہ ہونے کي شب ہے کيونکہ سارا عالم وجود امام زمانہ کے محور کے گرد حرکت کرتا ہے .
اس دن اسلامي جمہوريہ ايران تباہي کي طرف گامزن ہوجاۓ گا جب وہ بھول جاۓ کہ اس کا نمونہ عمل حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام جيسي بزرگ شخصيت ہے ۔
ہماري قوم علوي قوم اور حضرت اميرالمومنين عليہ الصلاۃ والسلام کي عاشق و مريد ہے ۔
اسلامي انقلاب حضرت اميرالمومنين کي تعليمات کا نمونہ ہے اور اسي پر ايران کا اسلامي نظام قائم ہے ۔
حضرت اميرالمومنين علي عليہ السلام کي حکومت قيام عدل و انصاف ،مظلوم کي حمايت ،ظالم کے مقابلے اور ہرحال ميں حق کي حمايت کے سلسلے ميں ايسي مثالي حکومت ہے جس پر ضرورعمل ہونا چاہيئے ۔
تاريخ بشر ميں نظم و ضبط کے پابند انسان روحاني کمالات کي اعلي منزلوں پربھي فائز ہوتے ہي ان ميں ايک حضرت اميرالمومنين علي عليہ السلام بھي ہيں ۔
حضرت امير المومنين سب کے لئے مکمل نمونہ عمل ہيں ۔
ہم اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام کي تعليمات پر عمل کرکے اپنے ملک و قوم کي عظيم آرزو يعني سماجي انصاف تک پہنچ سکتے ہيں ۔
عدل و انصاف حقيقي معني ميں اميرالمومنين حضرت اميرالمومنين کے وجود مقدس ان کي رفتا وگفتار اور ان کے تقوے اور ان کي توجہ ميں موجود ہے ۔
فردي لحاظ سے اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام تقوي کا واضح نمونہ اور حکومت وسياست و خلافت کے ميدانوں ميں آپ کي کارکردگي کي اساس عدل وانصاف ہے۔
حضرت اميرالمومنين کي حکومت کا امتياز عدل وانصاف ہے يعني عدالت مطلق يعني آپ اپني کسي ذاتي مصلحت کو عدل وانصاف پر مقدم نہيں کرتے ہيں ۔
برسوں سے کوشش کي جا رہي ہے کہ قدس فراموش ہوجاۓ ليکن عالمي يوم القدس نے اس سازش کو ناکام بنا ديا ہے۔
يوم قدس ايران سے مخصوص نہيں ہے بلکہ عالم اسلام سے متعلق ہے ۔
يوم قدس حضرت امام خميني کي کبھي نہ فراموش ہونے والي يادگار ہے۔
يوم قدس مسلمانوں کے اہم ترين اھداف ومقاصد پرتاکيد کرنے کا دن ہے ۔
يوم قدس عالم اسلام کے اھم ترين مسئلے پر تاکيد کرنےکا دن ہے ۔
يوم قدس مسلمان قوموں کي آزمائيش کا دن ہے۔
|
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
تحریر پیغمبر نوگانوی
|
|
پیر, 12 اپریل 2010 17:45 |
عالمی یوم قدس،فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی
 دنیا میں شاید ہی کسی قوم پر اتنے ظلم ہوئے ہوں جتنے مسلمانوں پر ہوئے ہیں،مسلمانوں میں بھی ملت فلسطین بے حد مظلوم ہے ،ملتوں کی بدبختی اور بربادی اکثر بڑی طاقتوں کے ذریعہ وجود میں آتی ہے ،اور بڑی طاقتیں لوگوں کو ناحق ستانا اپنا حق سمجھتی ہیں،فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردعورتوں اور بچوں پربھی مظالم روا رکھے ہوئے ہیں فلسطینی مسلمان اپنے ہی ملک میںپرائے اور بیگانے بنادیئے گئے.فلسطینیوں کی بد نصیبی یہ بھی رہی کہ انہیں مخلص و متحدقیادت نہ مل سکی،فلسطین میں 8بڑی تنظیمیں تھیں جنہوں نے مقاومت کا بیڑا اٹھایا تھا ،ان تنظیموں کے اکثر قائد عیسائی تھے اور جو مسلمان تھے وہ بھی گاہے گاہے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہتے تھے ،فلسطین کی بڑی تنظیم فتح کے سربراہ یاسر عرفات ہی کی مثال لے لیجئے کہ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ اور شرم الشیخ جیسے مقامات پر مسلمانوں کے خلاف رچی جانے والی سازشوں میں کس طرح حصہ لیا ،اور شادی بھی رچائی تو یہودی عورت سے، تو پھر بھلا کامیابی کس طرح ملتی؟
|
|
آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 29 اگست 2010 19:44 |
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
تحریر Administrator
|
|
اتوار, 11 اپریل 2010 17:10 |
بیت المقدس قبلۂ ا وّل اسلام
 ۱۔بیت المقدس کی جغرافیائی موقعیت بیت المقدس مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے شمال میں واقع ہے ۔یہ شہر’’یہود‘‘کے پہاڑوں پر واقع ہے جو پانی کو مشرق میں اردن کی کھاڑی اور مغرب میں دریائے مدیترانہ کے درمیان تقسیم کرنے والا ہے ۔ یہ شہر دو پتھریلی پہاڑیوں پر واقع ہے جو دریا کی سطح سے ۰۵۷/ میٹر کی بلندی پر ہے اور شمال میںبیت ایل اور جنوب میں حبرون یا الخلیل کے پہاڑوں کے درمیان فلات قدس اور الخلیل میں واقع ہے ۔شہر کے مغرب میں یہود ا پہاڑوں کی وادی اور مشرق میں بیابان یہود دکھائی دیتا ہے جو بحر ا لمیت تک چلا گیا ہے۔ بیت المقدس کی جغرافیائی وضعیت یہودا پہاڑوں کی ساخت سے مربوط ہے جو یکسان پتھر ہے اور اس میں کوئی کھائی نہیںہے،لہٰذااس وضعیت نے بیت المقدس کو ایک قلعہ میں تبدیل کر دیا ہے جو اپنے وسیع اطراف پر ناظر ہے۔ بیت المقدس کی آب و ہوا مدیترانئی ہے۔ ہلکی سردیوں میں کافی بارش ہوتی ہے اور موسم معتدل رہتا ہے اور موسم گرما میں بہت گرم اور مکمل خشک ہوتاہے ۔سال کے اکثر دنوں میں اس شہر میںمکمل دھوپ رہتی ہے ،سالانہ بارش کی میزان تقریباً پانچ سو میلی میٹر ہے اس شہر کے مغربی حصوں میں بارش کی میزان مشرقی حصوں سے زیادہ ہے ۔ ﴿بیت المقدس ص/۳۔۶﴾ ۲۔بیت المقدس کی فضیلت قرآن کے آئینہ میں
|
|
آخری تازہ کاری بوقت اتوار, 29 اگست 2010 20:00 |
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
تحریر Administrator
|
|
ہفتہ, 07 اگست 2010 18:19 |
पवित्र रमज़ान-२
र्थना, उपासना की आत्मा है। विशेषकर रोज़े के समय प्रार्थना का महत्व और भी बढ़ जाता है क्योंकि इस समय मनुष्य का पूरा अस्तित्व ईश्वर से संबन्धित होता है। प्रार्थना जितनी आस्था और मन से की जाएगी उसका प्रभाव भी उतना ही व्यापक होगा। यह मन को स्वच्छ करती है। इस्लामी शिक्षाओं के संबन्ध में जर्मनी की प्रख्यात लेखिका एन मैरी शेमल, प्रार्थना के संदर्भ मे इमाम संज्जाद अलैहिस्सलाम की दुआएं प्रस्तुत करती हैं। उनके कथनानुसारः- "मैं दुआओं को उनकी मुख्य भाषा अर्थात अरबी में ही पढ़ती हूं और किसी भी भाषा के अनुवाद में इन्हें नहीं पढ़ती। जिस समय मेरी माता अस्पताल में भर्ती थीं उस समय मैंने सहीफ़ए सज्जादिया नामक पुस्तक का जर्मनी भाषा में अनुवाद किया था। जिस समय मेरी माता सो जाती थीं उस समय मैं अस्पताल के एक कोने में बैठकर इस अनुवाद को साफ़ हैंडराइटिंग में लिखा करती थी। मेरी माता के बिस्तर के निकट ही एक अन्य बीमार महिला भी थी जो कटटर विचारों वाली कैथोलिक मतावलांबी थी। जब उसे यह ज्ञात हुआ कि मैं किसी इस्लामी दुआओं अर्थात प्रार्थनाओं का अनुवाद जर्मनी भाषा में कर रही हूं तो वह बहुत दुखी हुई। उसने बहुत ही अप्रसन्नता तथा चिंताजनक शैली में कहा कि क्या हमारी धार्मिक पुस्तकों की दुआओं में कोई कमी है जो तुमने मुसलमानों की दुआओं का अनुवाद करना आरंभ किया है। उस समय तो मैंने उससे कुछ नहीं कहा। किंतु जब मेरी किताब प्रकाशित हुई तो मैंने किताब की एक प्रति उसे भी भेजी। कुछ समय पश्चात उस महिला ने टेलिफोन के माध्यम से मुझसे सम्पर्क किया और कहा कि इस अच्छे उपहार के लिए आपकी बहुत आभारी हूं। इसका कारण यह है कि मैं प्रतिदिन उसका एक विषय पढ़ती हूं। यह पुस्तक मनमोहक तथा बहुत ही गूढ़ है।
|
|
آخری تازہ کاری بوقت بدھ, 25 اگست 2010 20:17 |
|
for compleat click hear
|
|
تحریر Administrator
|
|
منگل, 27 جولائی 2010 18:55 |
AAMAAL FOR THE MONTH RAMADHAN
AAMAAL FOR THE 19th, 21st & 23rd NIGHT OF RAMADHAN
Ghusl (Prescribed Bath) before Sunset
2 Rakaats of Namaaz (1x2). After Sure Al-Hamd recite Sure Ikhlaas (Kulhowallah) 7 tiles in each rakaat, thereafter recite "Astagferullaha Rabbi Wa-Atubo Ilaye" 70 times.
Aamaal of Quran :
Keep the Quran open in front of you and recite :
|
|
آخری تازہ کاری بوقت منگل, 10 اگست 2010 04:03 |
|
مزید پڑھیے۔۔۔
|
|
|
|
|